اردوئے معلیٰ

رسول کون ومکاں ہے دل آئینے میں روشن جمال تیرا

قسم خدا کی ہمارے اوپر کرم ہے یہ لازوال تیرا

 

نہ جانے کتنے گلاب پیکر فلک نے دیکھے زمیں پہ ابتک

اسے بھی حیرت ضرور ہوگی نہ دیکھا مثل و مثال تیرا

 

ہزاروں چہرے چمک رہے ہیں مرے تصور میں یوں تو لیکن

ملا ہے کس سے وہ کیف و مستی جو دے رہا ہے خیال تیرا

 

سپہر فضل و علیٰ پہ دیکھے ہزاروں شمس و قمر چمکتے

مگر نہ پایا گیا کسی میں حبیب داور کمال تیرا

 

ہے عرش اعظم پہ اس کی قسمت ملی ہے جس کو تری محبت

ترا تقرب، تقرب حق، وصال حق ہے وصال تیرا

 

ترے کرم نے دیا سہارا قرار یادوں نے تیری بخشا

غم جہاں سے اگر ہوا ہے غلام کوئی نڈھال تیرا

 

تری عطا کا رہین منت بساط عالم کا گوشہ گوشہ

کوئی تو کہہ دے یہاں نہ برسا سحاب جود و نوال تیرا

 

خلیل آئے، ذبیح آئے، کلیم آئے، مسیح آئے

مگر نہ آیا جواب کوئی رسول عالی خصال تیرا

 

ترے تکلم کی وہ فصاحت کہ بے زباں ہیں زبان والے

گلاب رحمت کھلا رہا ہے لبوں پہ حسن مقال تیرا

 

وصال طیبہ کی آہٹیں کچھ مجھے بھی محسوس ہو رہی ہیں

نکل رہا ہے فراق طیبہ دل و جگر سے ملال تیرا

 

نوازشوں کی ہے تجھ پہ بارش تو نورؔ حیرت کی بات کیا ہے

تمام عالم کے ہیں وہ داتا نہیں ہے تنہا سوال تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات