اردوئے معلیٰ

رشکِ افلاک ذات ہو جائے

حرزِ جاں اُن کی بات ہو جائے

 

چشمۂ آبِ نعت جاری ہو

کچھ سخن کی زکوٰۃ ہو جائے

 

اُن کی چشمِ کرم کی جنبش سے

ذرہ بھی کائنات ہو جائے

 

میرا سینہ مدینہ ہو ، ایسی

قلب پر واردات ہو جائے

 

پھول چومیں کنارۂ لب کو

وردِ لب جب صلوٰۃ ہو جائے

 

لمحۂ مرگ کے پہنچنے تک

کیوں نہ اک آدھ نعت ہو جائے

 

رشکِ گل سنگِ قلب ہو جونہی

آپ کا التفات ہو جائے

 

اذنِ طیبہ ملے اگر مجھ کو

بار آور حیات ہو جائے

 

محوِ ذکرِ حبیب ہو آسیؔ

اور اس کی وفات ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات