رشکِ ایجاب تبھی حرفِ دعا ہوتا ہے

 

رشکِ ایجاب تبھی حرفِ دعا ہوتا ہے

آل احمد کا وسیلہ جو عطا ہوتا ہے

 

جوڑتا ہوں سرِ قرطاس عقیدت سے حروف

اور مقصودِ سخن ان کی ثنا ہوتا ہے

 

یک بیک شعر اترتے ہیں تری مدحت میں

خامۂ عجز تری سمت جھکا ہوتا ہے

 

مدحتِ حسنِ مکمل ہو اگر جانِ سخن

بابِ انعام ہمیشہ ہی کھلا ہوتا ہے

 

وحشتِ عرصۂ دوراں سے میں گھبراؤں اگر

دستِ تسکیں مرے سینے پہ دھرا ہوتا ہے

 

سانس در سانس اذیت میں گزرتی ہے زیست

سلسلہ نعت کا جس دم بھی رکا ہوتا ہے

 

نام لیوا ہے نبی اور علی کا منظرؔ

اُس کو کیا رنج جو اِس در کا گدا ہوتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ