اردوئے معلیٰ

رشک گاہِ جہاں خطۂ نور ہے

رشک گاہِ جہاں خطۂ نور ہے

میں مدینے میں ہوں خواب مسرور ہے

 

کاسۂ حرف میں مدح کا صدقہ دیں

رو بہ رو نعت کے نطق معذور ہے

 

بے طلب ہی عطاؤں کے ہیں سلسلے

دوست یہ شہرِ آقا کا دستور ہے

 

ہجر کے شہر سے بارِ عصیاں لیے

آپ کے در پہ آیا یہ رنجور ہے

 

حبِ آلِ نبی ہے تعارف میرا

ہوں غلامِ صحابہ یہ مشہور ہے

 

چشمِ پر نم لیے در پہ بیٹھا ہوں میں

شوق کے شہر کا بس یہ منشور ہے

 

نامِ منظر غلاموں کی فہرست میں

کاش کہہ دیں وہ سُن کر کہ منظور ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ