اردوئے معلیٰ

رفاقتوں کا کوئی سلسلہ نہیں ہو گا

رفاقتوں کا کوئی سلسلہ نہیں ہو گا

سو اب کے بعد وہ مجھ سے جدا نہیں ہو گا

 

بروزِ حشر ہم ایسے ملیں گے آپس میں

ہمارے بیچ میں کوئی خدا نہیں ہو گا

 

ہماری سمت سے آواز سی کٹے گی اور

پھر اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہو گا

 

مری طرح تو کوئی پا نہیں سکے گی اسے

وہ اس طرح تو کسی پر فدا نہیں ہو گا

 

پھر اس کے بعد تمناّ طلب ہی کیا کرتی

وہ میرے پاس جو ہوگا تو کیا نہیں ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ