اردوئے معلیٰ

رفتہ رفتہ ہر اک گھاؤ بھر جاتا ہے

رفتہ رفتہ ہر اک گھاؤ بھر جاتا ہے

پہلے پہل ہم تجھ سے بچھڑ کر اور ہی کچھ تھے

 

سینے میں تھا درد مگر ہونٹوں پہ تبسم

باہر ہم کچھ اور تھے اندر اور ہی کچھ تھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ