رفرفِ فکر جو شاہ کی چوکھٹ پر جاتا ہے

رفرفِ فکر جو شاہ کی چوکھٹ پر جاتا ہے

در پر دید کی پیاسی آنکھیں دھر جاتا ہے

 

موت کو سچی مات سے واقف کر جاتا ہے

آقا کی ناموس پہ جس کا سر جاتا ہے

 

گردِ نعالِ شاہِ امم کا تحفہ پا کر

کاہکشاں کا چہرہ خوب نکھر جاتا ہے

 

سخت کٹھن ہے دو دھاری تلوار پہ چلنا

قلم سے لرزه اور نہ دل سے ڈر جاتا ہے

 

روح کا پنچھی رہ جاتا ہے طیبہ میں

زائر خالی پنجره لے کر گھر جاتا ہے

 

کاسہ لیسی کی نوبت آنے سے پہلے

طیبہ میں کشکولِ گدائی بھر جاتا ہے

 

کارِ ثنا کے لائق ہے اشفاق کہاں

لیکن پھر بھی حسبِ محبت کر جاتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے
پیشوائے انبیاء ہے آمنہ کی گود میں
مظہرِ قدرت باری صورت
نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے
جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا
گویا بڑی عطا ہے طلبگار کےلئے
کلی کلی کی زباں پر یہ نام کس کا ہے؟
گھٹا فیضان کی امڈی ہوئی ہے
کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں
دل نشیں ہیں ترے خال و خد یانبی

اشتہارات