رفرفِ فکر جو شاہ کی چوکھٹ پر جاتا ہے

رفرفِ فکر جو شاہ کی چوکھٹ پر جاتا ہے

در پر دید کی پیاسی آنکھیں دھر جاتا ہے

 

موت کو سچی مات سے واقف کر جاتا ہے

آقا کی ناموس پہ جس کا سر جاتا ہے

 

گردِ نعالِ شاہِ امم کا تحفہ پا کر

کاہکشاں کا چہرہ خوب نکھر جاتا ہے

 

سخت کٹھن ہے دو دھاری تلوار پہ چلنا

قلم سے لرزه اور نہ دل سے ڈر جاتا ہے

 

روح کا پنچھی رہ جاتا ہے طیبہ میں

زائر خالی پنجره لے کر گھر جاتا ہے

 

کاسہ لیسی کی نوبت آنے سے پہلے

طیبہ میں کشکولِ گدائی بھر جاتا ہے

 

کارِ ثنا کے لائق ہے اشفاق کہاں

لیکن پھر بھی حسبِ محبت کر جاتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ