اردوئے معلیٰ

رقصاں ہے روح و تن میں مرے موجۂ طرب

غلطاں ہوں آج میں بہ ثنائے شہِ عرب

 

خطبہ ہو یا دعا ہو کہ شہ پارۂ ادب

ذکرِ رسولِ پاک ہے بعدِ ثنائے رب

 

اس طرح سے نماز پڑھی اس نے ایک شب

خود تھا امام اور نبی مقتدی تھے سب

 

شیرِ وغا ہے دن میں وہ طاعت گزارِ شب

اپنے ہر اُمّتی کے لیے مغفرت طلب

 

شمعِ ہدیٰ کا نور بجھائے بجھے گا کب

ٹکرا کے اس سے دیکھ لے تقدیرِ بولہب

 

میخانۂ حجاز کی بٹتی ہے روز و شب

ہے بدنصیب اب بھی جو رہ جائے تشنہ لب

 

بھر دے لبا لب اس کو کسی دن تو کیا عجب

دریائے فیض وہ ہے میں پیمانۂ طلب

 

ایسا کریم نفس کہ دشمن کے حق میں بھی

دل میں نہیں کوئی رمَقِ غصہ و غضب

 

میرا حریف کون ہو کیف و سرور میں

ہوں بادہ نوشِ جام زِ میخانۂ عرب

 

کافر مَرے جو پی نہ سکے اس شراب کو

ساقی سے مل رہی ہے جو بے صرفہ و طلب

 

حد سے گزر چکی تھی رہِ دشمنی میں جو

فی النّار و فی السّقر ہے وہ حَمَّالۃ الحَطب

 

دل کو سنبھالوں یا نگَہِ مضطرب کو میں

پہنچا ہی چاہتا ہوں سرِ کوچۂ ادب

 

کوچہ میں جائیے گا نظرؔ اس کے سر کے بل

ہے راہِ عاشقی میں یہی اَمر مستحب

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات