رموزِ عشق مل جائیں ، کوئی حرفِ دعا آئے

رموزِ عشق مل جائیں ، کوئی حرفِ دعا آئے

ترے بچھڑے ہوؤں کو ہجر میں جینا ذرا آئے

 

تھمے گردش ہی پاؤں کی اگر منزل نہیں ملتی

نہ رکنے کا سبب نکلے نہ کوئی راستہ آئے

 

وگرنہ حبس کی شدت سے دھڑکن بند ہوجاتی

یہ روزن دل میں رکھا ہے کہ کچھ تازہ ہوا آئے

 

مجھے روٹھے ہوئے کی خیریت معلوم کرنی ہے

جو شہرِ یار کو جائے اسے بھی دیکھتا آئے

 

رخِ زرداب پہ اب کیا شفق کا پھوٹنا صاحب

بھلے بیلیں نکھر آئیں ، بھلے موسم ہرا آئے

 

اجڑ جاتی ہیں ایسے بستیاں دل کی ، محبت میں

کہ جیسے ہنستے بستے شہر میں موذی وبا آئے

 

مجھے سب لوگ کہتے ہیں پڑھو تم صبر کی آیت

اسے کوئی نہیں کہتا کہ وہ واپس چلا آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ