رنج و الم سے دُور بلا لیجئے حضور

رنج و الم سے دُور بلا لیجئے حضور

قربِ دیارِ نُور بلا لیجئے حضور

 

آنکھوں میں خواب طیبہ کے دل میں ہیں حسرتیں

کچھ کیجیئے حضور بلا لیجئے حضور

 

گو لائقِ دیار نہیں پھر بھی میرے شاہ

اک بار تو ضرور بلا لیجئے حضور

 

میں نے سنا ہے نور کی برسات ہوتی ہے

طیبہ میں ہے سُرور بلا لیجئے حضور

 

دنیا کے ظلم سے ہے مری جان جاں بلب

زخموں سے چور ، چور بلا لیجئے حضور

 

ناچیز پر بھی ہو کبھی چشمِ کرم ، عطا

رحمت کا بھی ظہور بلا لیجئے حضور

 

بخشش کی بھیک مجھ کو بہت ہوں گناہ گار

ہے عرض یاحضور بلا لیجئے حضور

 

کب سے تڑپ رہا ہے رضاؔ اذن دیجیئے

زیرِ قبائے نور بلا لیجئے حضور

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھے کامل یقین ہے، التجاؤں میں اثر ہو گا
بے نوا ہوں مگر ملال نہیں
عشق کا ہے یہ ہنر،میں ہوں یہاں نعت خواں
سرکار کی مدحت کو ہونٹوں پہ سجانا ہے
’’اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب‘‘
جبینِ خامہ حضورِ اکرم کے سنگِ در پر جھکائے راکھوں
کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی
میم تیرے نام کی تلخیصِ ہست و بود ہے
پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
آپؐ سے میری نسبت مرا فخر ہے

اشتہارات