رنج و آلام دور رہتے ہیں

رنج و آلام دور رہتے ہیں

مجھ پہ طاری سرور رہتے ہیں

 

ہے یقیں دل حرا ہے یا طیبہ

جب سے دل میں حضور رہتے ہیں

 

اُن کی چشمِ کرم کا صدقہ ہے

علم ہے ، باشعور رہتے ہیں

 

جب سے ہونٹوں پہ اُن کا نام آیا

غم نہیں ہیں ، سرور رہتے ہیں

 

جو دوانے ہیں شاہِ بطحا کے

راحتوں میں ضرور رہتے ہیں

 

وہ رضاؔ خوار ہو گئے سارے

جو بھی آقا سے دور رہتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری سرکارؐ امام الانبیا ہیں، مری سرکاؐر محبوبِ خُدا ہیں
اوج کے نقشِ چمن زار سے جا ملتا ہے
وہی روحِ روانِ بزمِ امکاناتِ دو عالَم
نامۂ تخلیق پر نقشِ بقا، غارِ حِرا
جہانِ شوق میں تدبیرِ انصراف کروں
خامۂ حرف بار چُپ، لہجۂ گُل بہار چُپ
حقیقت کُھل گئی نوری سفر میں
ان کے در سے بتاؤ کیا نہ ملا
چاند تاروں فلک پہ زمینوں میں بھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی
رنگ لائی مرے دل کی ہر اک صدا لوٹنے زندگی کے خزینے چلا