اردوئے معلیٰ

Search

رنگ شفق سے لے کر جیسے رُخ پہ مَلی ہے شام

اور نکھرتا جاتا ہے وہ جب سے ڈھلی ہے شام

 

دھوپ کنارہ زلفوں میں اور چاندنی گالوں پر

ایک افق پر چاند اور سورج! کیسی بھلی ہے شام

 

پت جھڑ جیسے رنگوں میں ہے جگنو جیسی آنچ

عمر کی جھکتی ٹہنی پر اک کھِلتی کلی ہے شام

 

رنگ فضا میں بکھرے ہیں اور شہنائی کی گونج

کس آنگن سے ہنستی روتی آج چلی ہے شام

 

سائے بھی آخر ڈھلتے ڈھلتے چھوڑ گئے ہیں ساتھ

رات سے کیسے اُلجھے آخر، چھاؤں جلی ہے شام

 

فکرِ جہاں کی بستی میں پُر پیچ سڑک ہےد ن

رات ہے روشن دروازہ اور تیری گلی ہے شام

 

رات اُترنے والی ہے اب کوئی ٹھکانہ ڈھونڈ

اک دفعہ سر پر آ کر کس کے سر سے ٹلی ہے شام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ