رودادِ سفر جس کو سنائی ترے در کی

رودادِ سفر جس کو سنائی ترے در کی

ہر ایک نے چاہی ہے رسائی ترے در کی

 

آنکھوں میں بسایا ہے تصور کا سلیقہ

پلکوں پہ کبھی خاک سجائی ترے در کی

 

کمخواب کی، اطلس کی نہ مخمل کی طلب ہے

اے کاش ملے مجھ کو چٹائی ترے در کی

 

جاروب کشی میرا مقدر ہو وہاں پر

کرتا رہوں دن رات صفائی ترے در کی

 

دربان ترے در کے بشر ہوں کہ ملائک

کرتے ہیں سبھی مدح سرائی ترے در کی

 

اعمال مرے کچھ نہیں ، اِک تیریؐ محبت

حاصل ہے، ذریعہ ہے، کمائی ترے در کی

 

اِک بار گیا تھا ترے دربار میں اشعرؔ

تقدیر نے بخشی تھی گدائی ترے در کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں
عکس روئے مصطفی سے ایسی زیبائی ملی
تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ
درِ نبی پہ نظر، ہاتھ میں سبوۓ رسولؐ
مصیبت میں پڑے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا
سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی

اشتہارات