روز اک چاند مرا قتل ہوا جاتا ہے

روز اک چاند مرا قتل ہوا جاتا ہے

اب کسی شب کی حمایت نہیں کی جائے گی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کچھ اس لیے بھی مسلسل سفر میں رہتا ہوں
نہ پوچھو ہم سفرو مجھ سے ماجرا وطن
ہم نے کب عشق کو سمجھا ہے تجارت جاناں
زندگی شاید اسی کا نام ہے
وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی
کسی کی تابش رخسار کا کہو قصہ
زخم کتنے تری چاہت سے ملے ہیں مجھ کو
دیکھ رہا تھا ہنستی کھیلتی آنکھوں کو
اتنی مدت تو سلگتا نہیں رہتا کچھ بھی
بچھڑ گۓ تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں

اشتہارات