روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے

روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے

جل رہے ہیں جو چراغ اُن کو شرف سے دیکھئے

 

اِس طرح ہو جائے شاید دوست دشمن کی تمیز

اپنے لشکر کو کبھی دشمن کی صف سے دیکھئے

 

سازشوں کے سلسلے چارہ گری کے نام پر

آج کے اِس دور تک عہدِ سلف سے دیکھئے

 

راہبرمشعل بکف ہے، تیرگی کا خوف کیا

راستے کو موقفِ مشعل بکف سے دیکھئے

 

کیا تعلق دل کا ہوتا ہے نظر سے دوستو

ناوکِ بے مہر کو آ کر ہدف سے دیکھئے

 

تشنگی ہو جائے گی معلوم دریا کی ظہیرؔ

ابر نیساں کو ذرا چشم صدف سے دیکھئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ