روضۂ اقدس کو دیکھوں اور دیکھے جاؤں میں

روضۂ اقدس کو دیکھوں اور دیکھے جاؤں میں

روز و شب اس محویت ہی سے تسلی پاؤں میں

 

دل کے آئینے میں عکسِ روئے انور ہو سدا

قلب کو اخلاص آگیں یاد سے چمکاؤں میں

 

دیکھ کر مقصورۂ سرکار ﷺ یہ دل نے کہا

کوئی ساعت کاش اب تو حاضری کی پاؤں میں

 

کر سکوں میں قلب میں تعمیر گھر اللہ کا

خانۂ اصنام اپنی خواہشوں کا ڈھاؤں میں

 

ربِّ کعبہ! اب مری یہ التجا بھی ہو قبول

بس کتابِ مدحِ آقا ﷺ ہی سدا دھراؤں میں

 

آمدِ شعرِ عقیدت پر حضوری ہو نصیب

حرفِ مدحت اس طرح دل سے لبوں تک لاؤں میں

 

اس طرح حاصل سُرورِ جاوداں ہو مدح میں

لکھتے لکھتے نعت احسنؔ کاش اب سو جاؤں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو
وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
دل میں اترتے حرف سے مجھ کو ملا پتا ترا
تیرا مجرم آج حاضر ہو گیا دربار میں
میں کبھی نثر کبھی نظم کی صورت لکھوں
نہ زہد و اتقا پر ہے نہ اعمالِ حسیں پر ہے
ہر درد کی دوا ہے صلَ علیٰ محمد
مرحبا سید مکی مدنی العربی
رسولِ پاک کی سیرت سے روشنی پا کر