اردوئے معلیٰ

Search

روکنے پائے نہ خنجر بھی زبان انقلاب

دار سے ہم دے کے آئے ہیں اذان انقلاب

 

غیر ممکن ہے کہ بھٹکیں رہروان انقلاب

ہر قدم سجاد کا ہے اک نشان انقلاب

 

اے حسین ابن علی تو ہی ہے جان انقلاب

بن ترے ہو ہی نہیں سکتا بیان انقلاب

 

تیر جیسے ہی چلایا ظلم رونے لگ گیا

تیر کھا کر مسکرایا شادمان انقلاب

 

سر کو سجدے میں کٹا کر کربلا کی خاک پر

کون تھا جس نے تراشا آسمان انقلاب

 

کربلا کو تقویت زینب کے خطبوں سے ملی

ورنہ رہ جاتی ادھوری داستان انقلاب

 

موت سے یہ ماتمی ڈرتے نہیں ہیں ظالمو

رک نہ پائے گا کبھی بھی کاروان انقلاب

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ