اردوئے معلیٰ

Search

روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں

یہ کرم ہے حضور کا ہم پر آنے والے عذاب ٹلتے ہیں

 

اب کوئی کیا ہمیں گرائے گا ہر سہارا گلے لگائے گا

ہم نے خود کو گرا دیا ہے وہاں گرنے والے جہاں سنبھلتے ہیں

 

ہیں کریم و کرم خصال وہی بھیک دیتے ہیں حسبِ حال وہی

ان کو آتا نہیں زوال کبھی قسمتیں جن کی وہ بدلتے ہیں

 

وہی بھرتے ہیں جھولیاں سب کی وہ سمجھتے ہیں بولیاں سب کی

آؤ بازارِ مصطفی کو چلیں کھوٹے سکّے وہیں پہ چلتے ہیں

 

گھر وہی مشکبار ہوتے ہیں خُلد سے ہمکنار ہوتے ہیں

ذکرِ سرکار کے حوالے سے جن گھروں میں چراغ جلتے ہیں

 

اپنی اوقات صرف اتنی ہے کچھ نہیں بات صرف اتنی ہے

کل بھی ٹکڑوں پہ اُن کے پلتے تھے اب بھی ٹکڑوں پہ اُن کے پلتے ہیں

 

ذکرِ سرکار کے اُجالے کی بے نہایت ہیں رفعتیں خالدؔ

یہ اُجالے کبھی نہ سمٹیں گے یہ وہ سورج نہیں جو ڈھلتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ