رُخصتی

راحتِ جاں ناز پرور سب مسرّت تم سے ہے

افتخار و شادمانی کی یہ دولت تم سے ہے

خانۂ آباد کی یہ شان و شوکت تم سے ہے

رونقِ بزمِ عروسی کی ضمانت تم سے ہے

 

محفلِ شادی کی رونق دائمی ہو شاد باد

رنگِ عشرت سے مزیّن آرسی ہو شاد باد

آنے والی زندگی کی ہر گھڑی ہو شاد باد

اک نئے جیون کی خاطر رخصتی ہو شاد باد

 

دیر تک تازہ گلابوں کی مہک باقی رہے

پھول چہرے پر تبسم کی دھنک باقی رہے

عمر بھر تابندہ سہرے کی چمک باقی رہے

اِن سہاگن چوڑیوں کی ہر کھنک باقی رہے

 

ہو مبارک تم کو اپنی زندگانی کا سفر

اک نئے بندھن میں دل کی شادمانی کا سفر

اک نئی دنیا میں دشتِ جاودانی کا سفر

رحمتِ حق سے ہو ثابت کامرانی کا سفر

 

زندگی کے راستے میں آگہی ہو ہر قدم

آرزوئیں کامراں ہوں بس خوشی ہو ہر قدم

جس طرف جاؤ سفر میں روشنی ہو ہر قدم

رشک سے منزل تمہی کو دیکھتی ہو ہر قدم

 

چاند تاروں سے سجی اِک کہکشاں تم کو ملے

تم جہاں جاؤ مقدّر مہرباں تم کو ملے

ہمسفر کا ساتھ اپنے جاوداں تم کو ملے

بجلیوں سے دُور ہو وہ آشیاں تم کو ملے

 

آج بچپن کی سکھی سنگت سے ناتا توڑ کر

اپنے پیاروں کی رفاقت سے توجہ موڑ کر

اک نئی نسبت سے اپنی ہر تمنا جوڑ کر

اپنے بابل کے بھرے گھر کو اکیلا چھوڑ کر

 

کہہ رہی ہو الوداع اشکوں بھری آنکھوں کے سنگ

لگ کے سینے رو رہی ہو بھائیوں بہنوں کے سنگ

لو تمہیں رخصت کیا اب اَن کہے لفظوں کے سنگ

جاؤ تم مہماں سرا سے اپنے گھر خوشیوں کے سنگ

 

میٹھی یادوں کی مہکتی سی ہوائیں اپنے ساتھ

بھَولے بچپن کی سنہری سی فضائیں اپنے ساتھ

اپنے دامن میں بھرے گھر کی وفائیں اپنے ساتھ

نورِ دل ماں باپ کی لے جا دعائیں اپنے ساتھ

 

لو مبارک ہو تمہیں وقتِ سفر اب الوداع

باندھ کر اشکوں کے سب لعل و گہر اب الوداع

جاؤ بابل کے نگر سے اپنے گھر اب الوداع

اے مری دختر مری نورِ نظر اب الوداع

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بیادِ قائدِ اعظمؒ (بسلسلۂ جشنِ صد سالہ 1977ء)
گوشوارہ
زہر کی ہے یہ لہو میں کہ دوا کی تیزی
مرہموں کی صورت میں زہر بھی ملے ہم کو
کب سے لگی ہے اُس کی نشانی کتاب میں
بے سمت کاوشوں کا ثمر دائرے میں ہے
اپنی قربت کے سب آثار بھی لیتے جانا
بے غرض کرتے رہو کام محبت والے
چپ چاپ جی رہے ہیں، تماشہ نہیں بنے
سر پہ رکھے گا مرے دستِ اماں کتنی دیر