رُخِ سرکار کا جلوہ نظر آئے تو کیا کہنے!

رُخِ سرکار کا جلوہ نظر آئے تو کیا کہنے!

بلاوا مجھ کو بھی طیبہ سے آ جائے تو کیا کہنے!

 

کروں شام و سحر چرچا دُرودِ پاک کا یارو!

مقدرّ کاش! میرا بھی یوں بن پائے تو کیا کہنے!

 

میرا جو رزق ہے آقا وہی ہے آپ کا صدقہ

وہی صدقہ میرا گھر بار بھی کھائے تو کیا کہنے!

 

سُلگتی دھوپ میں روزِ جزا اے رحمتِ عالم!

میسّر ہو گئے گر آپ کے سائے تو کیا کہنے!

 

ابو ایّوب کی مانند میرے گھر کا آقا جی

ستارہ میری قسمت کا چَمک جائے تو کیا کہنے!

 

تمہیں آقا نے بلوایا رضاؔ آئو چلیں طیبہ

مدینے پاک سے کوئی خبر لائے تو کیا کہنے!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سوال : حُسن کی دنیا میں دیجیے تو مثال؟
محمدؐ کا حُسن و جمال اللہ اللہ
حُسن کی تشبیہ کے سب استعارے مسترد
جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے
سَگ پُرانے ہیں آپ کے آقا
بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​
مرحبا! رحمت دوامی پر سلام
تاجدار جہاں یا نبی محترم (درود و سلام)
دوستو! نور کے خزینے کا
جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے