اردوئے معلیٰ

رگ و پے میں سمایا اسم ربی

رگ و پے میں سمایا اسم ربی

خیالوں پر بھی چھایا اسمِ ربی

مُنور ہیں فضائیں، خوشبوئیں ہیں

ظفرؔ کیا رنگ لایا اسمِ ربی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ