اردوئے معلیٰ

Search

رہبری کے زخموں کا چارہ گر نہیں ملتا

واپسی کے رستے میں ہمسفر نہیں ملتا

 

شہر ہے یا خواہش کی کرچیوں کا صحرا ہے

بے خراش تن والا اک بشر نہیں ملتا

 

ہر طرف ضرورت کی اک فصیلِ نادیدہ

بے شگاف ایسی ہے جس میں دَر نہیں ملتا

 

قہقہوں کے سائے میں بے بسی کا عالم ہے

مرگِ آدمیت کو نوحہ گر نہیں ملتا

 

انقلابِ دنیا نے زاویے بدل ڈالے

تذکروں میں ماضی کے اب مفر نہیں ملتا

 

جس کے در دریچے سب دل گلی میں کھلتے تھے

عہدِ نو کے قصوں میں وہ نگر نہیں ملتا

 

رات دن الجھتے ہیں بے نشان رستوں سے

خواہشوں کے جنگل میں سُکھ نگر نہیں ملتا

 

حرف معتبر ہوں تو اک روشنی سی دیتے ہیں

کاغذوں کو اب ورنہ آبِ زر نہیں ملتا

 

نم تو ہونا پڑتا ہے رنگ و روپ کی خاطر

خاکِ ریزہ ریزہ کو کوزہ گر نہیں ملتا

 

وقت روٹھ جاتا ہے انتظارِ پیہم سے

گھر سے جانے والوں کو پھر سے گھر نہیں ملتا

 

ق

 

بام و در تو ملتے ہیں سب اسی جگہ قائم

چاہتوں کے آنگن میں اک شجر نہیں ملتا

 

گمشدہ سی گلیوں کے آشنا سے گوشوں میں

آہٹوں سے کھل جائے ایسا در نہیں ملتا

 

ساتھ لے گئے تھے تم عہدِ خوش نظر میرا

تم تو مل گئے آخر، وہ مگر نہیں ملتا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ