اردوئے معلیٰ

Search

رہتی ہیں سدا اس پہ کرم بار گھٹائیں

اس واسطے مہکی ہیں مدینے کی ہوائیں

 

ہم پیشِ مدینہ ہیں لیے ایک تمنا

سرکار سے گر اذن ملے نعت سنائیں

 

ہے جن کا عقیدہ ورفعنا لک ذکرک

ہر روز وہ مدحت کے نئے پھول کھلائیں

 

میں بھیجتا رہتا ہوں درود اُن پہ شب و روز

آتی ہی نہیں پاس مرے یوں بھی بلائیں

 

کرتا ہے عطا پاک خدا آپ ہیں قاسم

پھر چھوڑ کے ہم آپ کا در کیوں کہیں جائیں

 

ہر سال گزر جاتا ہے ذی الحج کا مہینہ

سرکار بس اس بار مجھے در پہ بلائیں

 

ہم بعد ازاں حج کے بھی رہ جائیں وہیں پر

اور جشنِ ولادت بھی مدینے میں منائیں

 

ویزے کی یہ مدت ہے سبب ورنہ کبھی بھی

ہم اپنے وطن شہرِ مدینہ سے نہ آئیں

 

اس در پہ کبھی عرض کی حاجت نہیں ہوتی

اس طرز سے جاری ہیں یہاں روز عطائیں

 

رسوائی جو دنیا میں بھی ہونے نہیں دیتے

وہ میری چھپا لیں گے سرِ حشر خطائیں

 

ہیں فرشِ صفہ، خاکِ حرم، زم زمِ طیبہ

بیمارِ غمِ ہجرِ مدینہ کی دوائیں

 

جو مانگنا ہے مانگو یہ دربارِ نعم ہے

رد ہوتی نہیں اس درِ اقدس پہ دعائیں

 

ہو تشنہ لبی دور مری، والیِ کوثر

دو گھونٹ مجھے جامِ مطہر کے پلائیں

 

یہ دید بہ کف حسرتِ دیدار لیے ہے

بردے کو بھی اے نورِ خدا جلوہ دکھائیں

 

جب آئیں گی محشر میں شہِ دیں کی دلاری

تب حکم ملے گا کہ سبھی سر کو جھکائیں

 

آؤ چلیں منظر وہ درِ خیر و کرم ہے

کب تک یوں زمانے سے بھلا جھڑکیاں کھائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ