اردوئے معلیٰ

رہتے ہیں مرے دل میں ارمان مدینے کے

رہتے ہیں مرے دل میں ارمان مدینے کے

کب مجھ کو بلائیں گے سلطان مدینے کے

 

روتے ہیں تڑپتے ہیں، کہتے ہیں یہ دیوانے

کس روز بنیں گے ہم مہمان مدینے کے

 

اے کاش! مدینے میں سرکار جو بلوا لیں

ہو جائیں دل و جاں سے قربان مدینے کے

 

رہتے ہیں سدا ان کے دل کیفِ حضوری میں

پڑھتے ہیں قصیدے جو ہر آن مدینے کے

 

اب تاب نہیں مجھ میں دوری کی شہِ بطحا!

ہو جائیں بہم اک دن سامان مدینے کے

 

میرے لئے سب آصف، تعظیم کے لائق ہیں

وہ سنگ و شجر ہوں یا انسان مدینے کے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ