اردوئے معلیٰ

Search

زبانِ عاصی پہ نام تیرا کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے

ہے گلشنِ روح مہکا مہکا کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے

 

اسی تمنا میں عمر بیتی کبھی تو جائیں گے ہم مدینے

خدا نے آخر وہ دن دکھایا کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے

 

ہوئے ہیں سچی طلب سے عاری، فقط ہوس کے ہوئے پجاری

رواں ہے پھر بھی عطا کا دریا کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے

 

سخی کے در پر تو جب بھی جا کر کسی نے دستِ طلب بڑھایا

طلب سے بڑھ کر دیا ہمیشہ کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے

 

جلیل ان کی عطا کے صدقے ملا ہے اعزازِ نعت گوئی

ہے بے ہنر کو یہ اذن بخشا کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ