اردوئے معلیٰ

زباں پر ہے، دلوں میں ہے، مکاں سے لامکاں تک ہے

اُنہی کے نام کا چرچا زمیں سے آسماں تک ہے

 

کرم کا اُن کے جاری سلسلہ بابِ جناں تک ہے

غلاموں کا یہ سرمایہ یہاں سے ہے وہاں تک ہے

 

حرم سے مسجدِ اقصیٰ وہاں سے تا بہ اَو اَدنیٰ

ظہورِ شانِ محبوبی کہاں سے ہے کہاں تک ہے

 

مقامِ مصطفیٰ سدرہ پہ ظاہر ہوگیا جس دم

کہا جبریل نے میری رسائی بس یہاں تک ہے

 

رضا آقا کی مل جائے تو راضی رب بھی ہو جائے

غلاموں کی پہنچ آقا تمہارے آستاں تک ہے

 

علاجِ اضطرابِ آدمیت کیوں نہ ہو اِس جا

نظر سرکار کی اسرارِ رازِ کُن فَکاں تک ہے

 

وہی جلوہ نما ہوں جس طرف دیکھوں جہاں دیکھوں

مری حدِ تخیل جس قدر بھی ہے جہاں تک ہے

 

مری نعتوں میں بستی ہے نسیمِ گلشنِ طیبہ

خوشا قسمت کہ یہ خوشبو مرے اِس گلستاں تک ہے

 

بیاں کرنے لگا ہوں مدحتِ سرکار میں عارفؔ

عجب اک کیف طاری قلب سے نوکِ زباں تک ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات