اردوئے معلیٰ

زخموں کو چین آیا نہ پورے ادھڑ سکے

اچھے سے دل بسا ہے نہ کھل کر اجڑ سکے

 

اپنی کہانی اس لئے سب کو سنائی ہے

یہ شہر مجھ کو دیکھ کے عبرت پکڑ سکے

 

عجلت میں اس نے جانے کا یوں فیصلہ کیا

ہم ہاتھ جوڑ پائے نہ پیروں میں پڑ سکے

 

بے شک وہ یونیورسٹی میں داخلہ نہ لے

اتنا پڑھا لکھا ہو بس کہ آنکھ پڑھ سکے

 

ہم پر بہارِ وصل بھی نا مہرباں رہی

کب ہم خزاں میں پیڑ کی مانند جھڑ سکے

 

وہ کہہ رہا غلط تجھے ، تو مان لے غلط

اچھا ہے اک جواز پہ وہ بھی بچھڑ سکے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات