زمانہ بھیک جس سے مانگتا ہے

زمانہ بھیک جس سے مانگتا ہے

وہ سرکارِ دو عالم کا گدا ہے

 

کسی کا ہو نہیں سکتا وہ ہرگز

نبی کے نام پر جو بک چکا ہے

 

جو دل سے سرورِ عالم کو چاہے

خدائے پاک اس کو چاہتا ہے

 

جہاں روضہ ہے میرے مصطفیٰ کا

وہیں سے جنتوں کا راستہ ہے

 

بھلا ڈوبے گی کیسے میری کشتی

کرم سرکار کا جب ناخدا ہے

 

مجھے کیا فکر ہو ہر دو سرا کی

مرے ہمراہ جب آقا مرا ہے

 

بہاریں چومتی ہیں پاؤں اس کے

وہ سوئے شہرِ طیبہ جا رہا ہے

 

کروں میں کیوں نہ ذکرِ سرورِ دیں

کہ ان کا ذکر تو ذکرِ خدا ہے

 

نبی کی یاد کا سایہ ہے جب سے

عروجِ چرخ میرے زیرِ پا ہے

 

مری سوچوں کے ہر اک زاویے میں

دیارِ مصطفیٰ جلوہ نما ہے

 

جو چلتے ہیں نبی کے راستے پر

مجیبؔ ان کو زمانہ ڈھونڈتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ