اردوئے معلیٰ

Search

زمانے بھر کی گردشوں کو رام کر کے چھوڑ دوں

میں چاہوں جب بھی ہر خوشی کو عام کر کے چھوڑ دوں

 

یہ عشق تو نہیں کہ عمر بھر کو تھام لوں اسے

میں ہاتھ تیرا سرسری سلام کر کے چھوڑ دوں

 

وہ یاد جس کی بے خودی میں علم ہی نہ ہو سکے

میں کتنے سارے کام ایک کام کر کے چھوڑ دوں

 

میں تاج و تخت ، سلطنت سے ماورا ہوں یار _ من

یونہی کھڑے کھڑے یہ تیرے نام کر کے چھوڑ دوں

 

رکی رہوں تو اس جمود سے بھی اوب جاؤں میں

سفر کروں تو وہ بھی چند گام کر کے چھوڑ دوں

 

ترے غرور کی بساط میرے سامنے ہے یہ

میں تیرے جیسے سینکڑوں غلام کر کے چھوڑ دوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ