زمین اپنی مہ و خورشید اپنا آسماں اپنا

زمین اپنی مہ و خورشید اپنا آسماں اپنا

اگر سالار اپنا ہو تو یہ سب کارواں اپنا

 

ترے قدموں تلے پایا ہے ایسا نور مٹّی نے

کہ ذرّے بن گئے جس سے مہ و انجم کے آئینے

 

جلو میں ایسے جلوے لے کے محبوبِ خدا ٓیا

کہیں حدِ عدم سے بھی پرے تھا کفر کا سایا

 

کبھی جب آب و گل سے بن رہا تھا پیکرِآدم

بہ تمکینِ نبوّت آپ بھی موجود تھے اس دم

 

نبیِ اولیں آیا نبیِ آخریں ہو کر

شہنشاہِ رسالت اور حبیبِ داورِمحشر

 

تری آمد سے رت بدلی گئی بستانِ عالم کی

بیاں کرنے لگا تھا عظمتیں مہتاب شبنم کی

 

ہزاروں رحمتیں اس پر سلام اس پر درود اس پر

جسے پیدا کیا اللہ نے صلِّ علی پڑھ کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ