اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

زمیں بھی تیریؐ فلک بھی حضورؐ تیراؐ ہے

 

زمیں بھی تیریؐ فلک بھی حضورؐ تیراؐ ہے

فلک پہ چاند ستاروں میں نور تیراؐ ہے

 

خدا نے دونوں جہاں تمؐ کو سونپ ڈالے ہیں

کہ ذرّہ ذرّہ ہے تیراؐ، ضرور تیراؐ ہے

 

یہ آن بان ترےؐ در سے ہی ملی آقاؐ

یہ عزّ و شان یہ سارا غرور تیراؐ ہے

 

ہر ایک فیصلہ تیریؐ رضا سے ہونا ہے

یقیں سے کہتا ہوں ’’یوم النشور‘‘ تیراؐ ہے

 

تڑپ تو دل میں حضوری کی بے تحاشا ہے

کروں تو کیا کروں مسکن ہی دُور تیراؐ ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہجر کا غم ہے یا رسول اللہ ﷺ
وہ ہی بے لوث ہے جو آپ کی نسبت سے ملا
آپ تو صرف حکُم کرتے ہیں
سیر احوال و مقامات ہے معراج کی رات
یاد آئی تو در ناب امڈ آئے ہیں
شوقِ دیدار ہے طاقِ امید پر
تیرے در پر خطا کار ہیں سر بہ خم اے وسیع الکرم
میں سو جاتا ہوں کر کے گفتگو صدیقِ اکبر کی
میں کہاں جائوں تیرے در کے سوا
منزل کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور بس