اردوئے معلیٰ

Search

زمیں والو! مبارک ہو شہِ ابرار آئے ہیں

خدا کی مِلک کے وہ مالک و مختار آئے ہیں

 

ازل سے جن کے آنے کی نویدیں انبیاء نے دیں

وہی رہبر ، وہی تو خلق کے سردار آئے ہیں

 

جہاں سے چھٹ گئے ظلم و ستم کے سب اندھیرے بھی

اُجالے ہو گئے جب پیکرِ انوار آئے ہیں

 

یتیموں ، بے نواؤں کے غموں کو ٹالنے والے

سبھی خوشیاں مناؤ حامی و غمخوار آئے ہیں

 

سرِ اقدس پہ رحمت کا سجائے تاج دنیا میں

جہانوں کے لیے رحمت ، شہِ ابرار آئے ہیں

 

فلک والے بھی جشنِ آمدِ سرکارِ والا میں

لیے جھنڈے ولادت کے سبھی حبدار آئے ہیں

 

نکیرو! دیکھ لو عاصی کی بھی تقدیر جاگ اُٹھی

مری بھی قبر میں میرے نبی سرکار آئے ہیں

 

رضاؔ حُسن و جمالِ سیّدِ کونین کیا کہنے!

خدائی بھی ہے شاہد حُسن کے شہ کار آئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ