زمیں والو! مبارک ہو شہِ ابرار آئے ہیں

زمیں والو! مبارک ہو شہِ ابرار آئے ہیں

خدا کی مِلک کے وہ مالک و مختار آئے ہیں

 

ازل سے جن کے آنے کی نویدیں انبیاء نے دیں

وہی رہبر ، وہی تو خلق کے سردار آئے ہیں

 

جہاں سے چھٹ گئے ظلم و ستم کے سب اندھیرے بھی

اُجالے ہو گئے جب پیکرِ انوار آئے ہیں

 

یتیموں ، بے نواؤں کے غموں کو ٹالنے والے

سبھی خوشیاں مناؤحامی و غمخوار آئے ہیں

 

سرِ اقدس پہ رحمت کا سجائے تاج دنیا میں

جہانوں کے لیے رحمت ، شہِ ابرار آئے ہیں

 

فلک والے بھی جشنِ آمدِ سرکارِ والا میں

لیے جھنڈے ولادت کے سبھی حبدار آئے ہیں

 

نکیرو! دیکھ لو عاصی کی بھی تقدیر جاگ اُٹھی

مری بھی قبر میں میرے نبی سرکار آئے ہیں

 

رضاؔ حُسن و جمالِ سیّدِ کونین کیا کہنے!

خدائی بھی ہے شاہد حُسن کے شہ کار آئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آنکھیں جو خدا دے تو ہو دیدار محمد
پادشاہا! ترے دروازے پہ آیا ہے فقیر
خوشا نصیب یہ بندہ بھی نعت کہتا ہے
واللّیل ضیائے زلفِ دوتا رخسار کا عالم کیا ہوگا
ہوئی ہے رُوح مری جب سے آشنائے درود
جُز آپ کے اے شاہِ رسولاں نہیں دیکھا
جیسے چُھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے
کرم کے بادل برس رہے ہیں
اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول
ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا

اشتہارات