اردوئے معلیٰ

زمیں پر جو جنت کا نقشہ ہے واللّٰہ

زمیں پر جو جنت کا نقشہ ہے واللّٰہ

مدینہ مدینہ مدینہ ہے واللّٰہ

 

زیارت گہِ قُدسیانِ مُقرّب

شہنشاہِ بطحا کا روضہ ہے واللّٰہ

 

زمانے میں اَوج و ترقی کا ضامن

نبیِ مکرّم کا اُسوہ ہے واللّٰہ

 

ہوا دُور سنت سے شاہِ رسل کی

اسی سے تو مسلم شکستہ ہے واللّٰہ

 

مرے واسطے روضۂ شاہِ والا

عقیدت کا قبلہ و کعبہ ہے واللّٰہ

 

مجھے حد سے بڑھ کر ہے جنت کی خواہش

اگر اس میں طیبہ کا جلوہ ہے واللّٰہ

 

وما ینطقُ سے ہوا صاف ظاہر

ترا قول الہامِ مولیٰ ہے واللّٰہ

 

میں گمنام تھا وسعتِ دوجہاں میں

تری نعت ہی سے تو شہرہ ہے واللّٰہ

 

مری مشکلیں پڑ گئیں مشکلوں میں

ترا نام جب سے وظیفہ ہے واللّٰہ

 

دوعالم کی سانسوں کے چلنے کا معنیٰ

"​تو زندہ ہے واللّٰہ تو زندہ ہے واللّٰہ”​

 

مجھے لوگ کہتے ہیں مارہرہ والا

یہی میری بخشش کا رستہ ہے واللّٰہ

 

بصارت میں نورِ بصیرت ملادے

یقیناً بریلی کا سرمہ ہے واللّٰہ

 

مشاہدؔ یہ ہے برکتِ ذکرِ احمد

ہر اک رنج و غم سے افاقہ ہے واللّٰہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ