اردوئے معلیٰ

Search

زندگانی تو اگر یوں ہو بسر کیا کیجئے

دل ہی جب پتھر ہوئے تو دل میں گھر کیا کیجئے

 

ایک آشوبِ سماعت میں ہے دنیا مبتلاء

کوں سامع ہے یہاں عرضِ ہنر کیا کیجئے

 

چوٹیاں کہسار کی ہوں یا کہ پھر گوندھی ہوئی

چوٹیاں پامال ہو جاتی ہیں سر کیا کیجئے

 

راہ پر رہیئے تو رہیئے کون سی امید پر

اب کہیں جاتی نہیں ہے رہگذر کیا کیجئے

 

ہیں بہت رفتار میں ہم اور اس رفتار سے

ایک اک کر کے جھڑے جاتے ہیں پر کیا کیجئے

 

وہ قیامت خیز لہجہ ہے بوقتِ مرگ بھی

بیٹھ کر سر دھن رہے ہیں چارہ گر کیا کیجئے

 

راندہِ افلاک ٹھہرے ، خواہشِ پرواز پر

پاوں اب اگنے لگے ہیں خاک پر کیا کیجئے

 

رن بہت گھمسان کا ہے اور ہم ہیں سوچ میں

کون سی جانب تھے ہم ائے خیر و شر کیا کیجئے

 

زخم ہو کہ آنکھ ہو کہ دل ہو یا کہ ظرف ہو

آخرش اک روز تو جانا ہے بھر کیا کیجئے

 

منقطع ہو جائے نہ سانسوں کا ناصر رابطہ

مرحلہ مقطع کا ہو درپیش گر کیا کیجئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ