زندگانی کا یہ قرینہ ہو

زندگانی کا یہ قرینہ ہو

پُر ضیاء قلب کا نگینہ ہو

اور کچھ بھی نہ ہو فداؔ اس میں

دل میں یادِ شہِ مدینہ ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے
خاطی ہوں سیاہ رُو ہوں خطاکار ہوں میں
نعت کا فیض عام کرتے ہیں
آپؐ جیسا حسیں نہیں کوئی
آپؐ ہی خیر البشرؐ ہیں آپؐ ہی نُورمبیں
خدا کی کبریائی ہے جہاں تک
میں اِک بھُوکا تھا پیاسا تھا مُسافر
کیا مجھ سے واعظ نے ذکرِ مدینہ
’’جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے‘‘
’’ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت‘‘