اردوئے معلیٰ

زندگی عشقِ محمد میں گزاری جائے

زندگی عشقِ محمد میں گزاری جائے

آخرت اپنی اسی طَور سنواری جائے

 

دیدِ طیبہ کو ترستا ہوں میں اک مدت سے

روز دربار پہ یہ بادِ بہاری جائے

 

قافلے والو! مجھے ساتھ ہی لیتے جانا

جانبِ طیبہ سواری جو تمہاری جائے

 

حسن دنیا کا بھلا کیسے سما سکتا ہے

دل میں تصویر جو طیبہ کی اتاری جائے

 

اُن کے دربار کی کیا شان ہے دیکھو آصف

تاج والا بھی وہاں بن کے بھکاری جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ