زندگی کا ہر اک ہے سلسلہ مدینے سے

زندگی کا ہر اک ہے سلسلہ مدینے سے

دھڑکنوں کا سانسوں کا رابطہ مدینے سے

 

تم نے کچھ نہ پایا ہو تو تمہاری قسمت ہے

ہم کو تو ملا رب کا بھی پتا مدینے سے

 

ارمغاں جو ملتے ہیں خاص خاص بندوں کو

ان سبھی کا ہوتا ہے فیصلہ مدینے سے

 

ہم کو اپنی ہستی سے بھی عزیز تر ہے وہ

دور سے بھی ہے جس کا واسطہ مدینے سے

 

ظلمتِ زمانہ کو جس نے پاش کر ڈالا

مرحبا وہی پایا رہنما مدینے سے

 

ان کی مہربانی سے بار ہا ہوا یوں بھی

چل دیا مدینے کو آگیا مدینے سے

 

جن حسین سوچوں سے زندگی مہکتی ہے

آسؔ ان کا ہو تا ہے رابطہ مدینے سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ