اردوئے معلیٰ

زندہ ہزاروں لوگ جہاں مر کے ہو گئے

ہم بھی خدا کا شکر اُسی در کے ہو گئے

 

جو راس تھا ہمیں وہی قسمت نے لکھ دیا

ہم جور آشنا تھے ستم گر کے ہو گئے

 

نکلے تھے ہم جزیرۂ زر کی تلاش میں

ساحل کی ریت چھوڑ کے ساگر کے ہو گئے

 

کچھ ایسا رائگانیِ دستک کا خوف تھا

پہلا جو در کھلا ہم اُسی در کے ہو گئے

 

میرے ستم گروں کا بھی معیار بڑھ گیا

پتھر جو مجھ پر آتے تھے مرمر کے ہو گئے

 

بالیدگی ہوائے سیاست کی دیکھنا

بالشتیئے اک آن میں گز بھر کے ہو گئے

 

کرنے لگے ہیں وہ بھی لو بچپن کو اپنے یاد

بچّے ظہیرؔ میرے برابر کے ہو گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات