اردوئے معلیٰ

Search

زہر کی ہے یہ لہو میں کہ دوا کی تیزی

دل کی رفتار میں آئی ہے بلا کی تیزی

 

اُس کے چھونے سے مرے زخم ہوئے رشکِ گلاب

بس گئی خون میں اُس رنگِ حنا کی تیزی

 

بھاوٴ بڑھتے ہی گئے عشقِ طلب گار کے اور

راس آئی اُسے بازارِ وفا کی تیزی

 

پھر کسی رخصتِ تازہ کی خبر دیتی ہے

سرد موسم کے تناظر میں ہوا کی تیزی

 

صرف ہونٹوں سے جو نکلے تو صدا ہے رسمی

دل سے نکلے تو ہے برّاق دعا کی تیزی

 

شہر عادی ہے یہ سرگوشیاں سننے کا ظہیرؔ

کہیں بھونچال نہ بن جائے صدا کی تیزی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ