زیادہ پاس مت آنا

زیادہ پاس مت آنا
زیادہ پاس مت آنا
مَیں وہ تہہ خانہ ھُوں جس میں
شکستہ خواھشوں کے ان گنت آسیب بستے ھیں
جو آدھی شب تو روتے ھیں، پھر آدھی رات ھنستے ھیں
مری تاریکیوں میں
گُمشدہ صدیوں کے گرد آلُود، ناآسُودہ خوابوں کے
کئی عفریت بستے ھیں
مری خوشیوں پہ روتے ھیں، مرے اشکوں پہ ھنستے ھیں
مرے ویران دل میں رینگتی ھیں مکڑیاں غم کی
تمناؤں کے کالے ناگ شب بھر سرسراتے ھیں
گناھوں کے جَنے بچُھو
دُموں پر اپنے اپنے ڈنک لادے
اپنے اپنے زھر کے شعلوں میں جلتے ھیں
یہ بچھو دُکھ نگلتے اور پچھتاوے اُگلتے ھیں

زیادہ پاس مت آنا
مَیں وہ تہہ خانہ ھوں جس میں
کوئی روزن، کوئی کھڑکی نہیں باقی
فقط قبریں ھی قبریں ھیں
کہیں ایسا نہ ھو تُم بھی انہی قبروں میں کھو جاؤ
انہی میں دفن ھو جاؤ
گُلابی ھو، کہیں ایسا نہ ھو تُم زرد ھو جاؤ
محبت کی حرارت کھو کے بالکل سرد ھو جاؤ
سراپا درد ھو جاؤ
سو میرے سادہ و معصُوم ! مُجھ کو راس مت آنا
زیادہ پاس مت آنا
زیادہ پاس مت آنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شرمیلی محبوبہ سے
عنایت
صبحِ غم بسلسلۂ مرگِ زوجۂ دوم (1980ء)
آنکھوں پہ گرد راہ ہے اور راہ گمشدہ
ای میل E-mail
کیا تم اک بات مجھے کُھل کے بتا سکتی ہو
سکوت ِشام میں چیخیں سنائی دیتی ہیں
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
یہ کیا کہ جب بھی ملو ، پوچھ کے ، بتا کے ملو
گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں