’’سائلو! دامن سخی کا تھام لو‘‘

’’سائلو! دامن سخی کا تھام لو‘‘

مانگنا ہے جو بھی اُن سے مانگ لو

فضلِ آقا عام ہو ہی جائے گا

’’کچھ نہ کچھ انعام ہو ہی جائے گا‘‘

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

فرعون سے بدتر ہے وہ جل جائے الہی
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
سینے میں اُنؐ کی تنویر
جب بھی ہم اُنؐ کا ذکر کرتے ہیں
شاہ بطحا مجھے نظر دے دیں
مری سرکارؐ ہیں دل کش دل آراء
مری جاں میں سمایا عشقِ محبوبِ خدا ہے
خداوندا مجھے عزمِ سفر دے
’’ہم خاک اُڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی‘‘
’’با عطا تم، شاہ تم، مختار تم‘‘