ساقی کا اگر مجھ پر فیضانِ نظر ہوتا

ساقی کا اگر مجھ پر فیضانِ نظر ہوتا

بادہ بھی دگر ہوتا، نشّہ بھی دگر ہوتا

 

منزل سے بھٹکنے کا تجھ کو نہ خطر ہوتا

نقشِ کفِ پا ان کا گر پیشِ نظر ہوتا

 

اس عالمِ گزراں کا عالم ہی دگر ہوتا

کہتے ہیں بشر جس کو، اے کاش بشر ہوتا

 

تو اپنے گناہوں پر نادم ہی نہیں ورنہ

یا دیدۂ تر ہوتا، یا دامنِ تر ہوتا

 

دم گھٹنے لگا میرا، اے میرے خدا اب تو

یہ تیرہ شبی جاتی، ہنگامِ سحر ہوتا

 

غم کی زدِ پیہم سے بچتا میں نظرؔ کیسے

دل یہ نہ مرا بڑھ کر گر سینہ سپر ہوتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں بساطِ شاعری کا نہیں کوئی فردِ ماہر
آنسو بہا نہ غم کے تو ،آہ نہ بار بار کر
مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا
پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو
میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا
گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے
مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی