اردوئے معلیٰ

سالار اہلِ حق و صداقت نکل پڑے

بن کر حسین دین کی قسمت نکل پڑے

 

گمراہیاں یزید کی صورت نکل پڑیں

شبیر بنکے شمعِ ہدایت نکل پڑے

 

جب دیکھا لٹ رہی ہے شریعت کی آبرو

طیبہ سے پاسبانِ شریعت نکل پڑے

 

جب دین کے خلاف چلیں سرخ آندھیاں

ابن رسول بہرِ حفاظت نکل پڑے

 

اسلام کی حیات کا جب آ گیا سوال

شبیر لے کے شوق شہادت نکل پڑے

 

باطل کا زور توڑنا لازم تھا سو حسین

اک مختصر سی لے کے جماعت نکل پڑے

 

امت کا درد ، عشق نبی ، جذبۂ جہاد

دل میں بسا کے جانِ سیادت نکل پڑے

 

زہرا کے لاڈلے گل گلزار اہلبیت

شیر خدا کی بن کے شجاعت نکل پڑے

 

حالانکہ اور لوگ بھی کرتے تھے جاں نثار

اسلام کو تھی جن کی ضرورت نکل پڑے

 

اصغر کریں جو گود میں جانے کی آرزو

لینے کو اپنی گود میں جنت نکل پڑے

 

حقّانیت کے نام پہ سہ لینگے ہر ستم

یہ کہہ کے اہل بیتِ طہارت نکل پڑے

 

تاریخ ہے گواہ کہ میرے نبی کے لعل

دین خدا کی بن کے ضمانت نکل پڑے

 

آل نبی نے اپنی طرف راستہ دیا

گھر سے جو نورؔ اہل عقیدت نکل پڑے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات