سالگرہ

سو آج سلسلۂ روزوشب وہیں پہنچا

جہاں سے کربِ مسلسل کی ابتدا ہوئی تھی

 

اُسی مقام پہ آ نکلا ہے پھر سے جادۂ وقت

جہاں حیات ترے غم سے آشنا ہوئی تھی

 

یہی وہ موڑ تھا جس پر جنوں بنا مرا دوست

اسی پڑاؤ پہ مجھ سے خوشی خفا ہوئی تھی

 

بفیضِ گردشِ دوراں ہوا جو حال ہوا

مگر یہ سوچ کے دل کو بہت ملال ہوا

کہ تُجھ سے بچھڑے ہوئے آج ایک سال ہوا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

لندن
المیہ
رخصتی
مجھے اپنا نہیں
کرتا مَیں کیا گُریز ترے خدّوخال سے
کب درد بدلتے ھیں ! کب حال بدلتا ھے
تمہیں خبر بھی ھے جو مرتبہ حُسین کا ھے ؟
تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں
نم دیدہ دعاؤں میں اثر کیوں نہیں آتا ؟
اِک تُو ہی نظر آئے جس سمت نظر جائے