اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

سبھی موسم ہیں دسترس میں تری

سبھی موسم ہیں دسترس میں تری

تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو بھی جس وقت جہاں جیسے مِلے، قدر کرو
عشق کرنے میں اک خرابی ہے
کچھ ایسے لمحۂ موجود میں پیوست ہے ماضی
ذرا سی دیر میں آنے کا کہہ گیا تھا کوئی
نظر میں روشنی رکھنا کسی حوالے کی
یہ رقیبوں کی ہے سخن سازی
کہیں ایجاد محض بے مفہوم کہیں
میں اوروں کو کیا پرکھوں آئینہ عالم میں
کیا حسیں خواب محبت میں دیکھایا تھا ہمیں
انداز بیاں راز کئی کھول رہا ہے