سب توڑ دیں حدود ، مرا دل نہیں لگا

سب توڑ دیں حدود ، مرا دل نہیں لگا

زندان تھا وجود ، مرا دل نہیں لگا

 

من میں منافقت لئے پڑھتی رہی نماز

تھے نام کے سجود ، مرا دل نہیں لگا

 

اے رب دو جہان ترے اس جہان میں

کوشش کے باوجود ، مرا دل نہیں لگا

 

اس بار شوقِ وصل کی لذت بھی کھو گئی

طاری رہا جمود ، مرا دل نہیں لگا

 

دنیائے رنگ و رس سے بھی اکتا گئی ہوں میں

کیا رقص کیا سرود ، مرا دل نہیں لگا

 

میں جارہی ہوں چھوڑ کے اے ساکنان ِ شہر

یہ قریہ ء نمود ، مرا دل نہیں لگا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا
پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو
میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا
گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے
مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی
پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں
اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے