سب سے اُونچا ہے مرتبہ اُن کا

سب سے اُونچا ہے مرتبہ اُن کا

ہر کوئی ہے یہاں گدا اُن کا

 

پانی کے چشمے بھی ہوئے جاری

دَستِ رحمت جب اُٹھ گیا اُن کا

 

وہی دیتے ہیں خیر کی دولت

کھا رہا ہے جہاں دِیا اُن کا

 

دیکھنا سب وہ بخشا جائے گا

پاس جس کے ہے واسطہ اُن کا

 

کیا زمیں، آسمانوں میں بھی ہے

اے رضاؔ ذِکر گونجتا اُن کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ ہو ذکرِ نبی محفل وہ کیا ہے
ہم کہ آدابِ قلم لہجۂ لب جانتے ہیں
یادِ سرکار کی لے کے ہم روشنی یاں سے سُوئے مدینہ اگر جائیں گے
دعاؤں کو اثر کی آرزو ہے
درہم کی طلب ہے نہ ہی دینار کی خواہش
نبی کے عشق کا دل میں چراغ لے کے چلے
روضہ ہےمیرے سامنے گھر بھول گیاہوں
کریم ! تیرے کرم کا چرچا نگر نگر ہے گلی گلی ہے
آرزو قلبِ مضطر کی یارو! ان کے در کے سوا کچھ نہیں ہے
نظر آتے ہیں پھول سب کے سب