اردوئے معلیٰ

Search

سجا رہا ہے جو اب دل کے آئنے میں مجھے

وہ چھوڑ جائے گا اک روز راستے میں مجھے

 

بھلا کے اس کو میں سب کچھ ہی بھول بیٹھا تھا

سو اُس کو لانا پڑا پھر سے حافظے میں مجھے

 

طلسمِ شب میں گھلی جب حسیں بدن کی مہک

جدا لگا تھا ترا لمس ذائقے میں مجھے

 

تو کیا ثبوت نہیں ہے چراغ ہونے کا

وہ شخص روز جلاتا ہے طاقچے میں مجھے

 

عجب خمار بدن کی حدوں میں اترا ، جب

وہ لڑکی شعر سناتی رہی مزے میں مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ