اردوئے معلیٰ

Search

سجا ہے لالہ زار آج نعت کا

ہر ایک قلب پر ہے راج نعت کا

 

ہر ایک صنف کو زوال ہے مگر

چلے گا دائمی رواج نعت کا

 

بڑے ادب سے حرف حرف جوڑنا

بڑا لطیف ہے مزاج نعت کا

 

بڑا ہی دلربا ہے دل نشین ہے

یہ آیتوں میں امتزاج نعت کا

 

لحد نہ ہو گی تیرگی سے آشنا

رہے گا ضوفشاں سراج نعت کا

 

عمل کی فرد سے گناہ مٹ گئے

کیا گیا جو اندراج نعت کا

 

چلیں گے سوئے حشر ہم اٹھا کے سر

ہمارے سر سجے گا تاج نعت کا

 

سجود میں شمار ہو گا دیکھنا

کیا ہے جو بھی کام کاج نعت کا

 

درود اور سلام ہوگا مشغلہ

بنے گا خلد میں سماج نعت کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ