سجا ہے لالہ زار آج نعت کا

سجا ہے لالہ زار آج نعت کا

ہر ایک قلب پر ہے راج نعت کا

 

ہر ایک صنف کو زوال ہے مگر

چلے گا دائمی رواج نعت کا

 

بڑے ادب سے حرف حرف جوڑنا

بڑا لطیف ہے مزاج نعت کا

 

بڑا ہی دلربا ہے دل نشین ہے

یہ آیتوں میں امتزاج نعت کا

 

لحد نہ ہو گی تیرگی سے آشنا

رہے گا ضوفشاں سراج نعت کا

 

عمل کی فرد سے گناہ مٹ گئے

کیا گیا جو اندراج نعت کا

 

چلیں گے سوئے حشر ہم اٹھا کے سر

ہمارے سر سجے گا تاج نعت کا

 

سجود میں شمار ہو گا دیکھنا

کیا ہے جو بھی کام کاج نعت کا

 

درود اور سلام ہوگا مشغلہ

بنے گا خلد میں سماج نعت کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات