اردوئے معلیٰ

سخنوری نے مدینہ دکھا دیا مجھ کو

مری نجات کا زینہ دکھا دیا مجھ کو

 

وہ جس کو دوش پہ طوفان لے کے چلتے ہیں

وہ رحمتوں کا سفینہ دکھا دیا مجھ کو

 

سر اپنا سبطِ محمد نے رکھ کے نیزے پر

فرازِ دین کا زینہ دکھا دیا مجھ کو

 

مرے حضور نے بن کر قرآن کی تفسیر

عمل سے سارا قرینہ دکھا دیا مجھ کو

 

بروزِ حشر جو کام آئیگا خدا کے حضور

نصیب نے وہ نگینہ دکھا دیا مجھ کو

 

نبی جی اب مجھے دیدار بھی عطا کیجے

یہ کیا کہ صرف مدینہ دکھا دیا مجھ کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ